ابن کثیر نے ابن تیمیہ کے جنازہ کے بارے میں بزارلی سے نقل کیا ہے کہ
إن الخيط الذي كان فيه الزئبق الذي كان في عنقه بسبب القمل، دفع فيه مائة وخمسون درهما
جوؤں کے باعث جو آپ نے اپنی گردن میں جو پارے والا دھاگہ ڈالا تھا۔۔ ”البدایہ والنہایہ ج 14 ص 159 ترجمہ مولانا اختر فتح پوری"
سوال یہ ہے کہ کچھ لوگ یہ کہ رہے ہیں ابن تیمیہ سلفی فتوی کے مطابق شرک پر فوت ہوے کیونکہ انہوں نے مرتے دم تک جوؤں سے بچنے کے لیے اپنی گردن میں پارے والا دھاگہ ڈالے رکھا تھا،اور وہ قرآنی تاویز نہ تھا.
الجواب:
یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں فلاں اہل الحدیث علماء کو تا دم آخر آکسیجن لگی رہی ہے ۔ اور یہ کوئی قرآنی تعویذ نہیں ! لہذا ..... الخ
یا فلاں فلاں امام کے گلے میں تادم آخر پٹی رہی ہے جو اسکی بازو کی ہڈی کو جوڑنے کے لیے پہنائی گئی تھی اور یہ کوئی قرآن تعویذ نہیں ! لہذا ... الخ
ایسے ہی مسلمان خواتین اپنے گلے میں ہار وغیرہ پہنتی ہیں اپنے حسن کو دوبالا کرنے کے لیے اور وہ بھی کوئی قرآنی تعویذ نہیں ہوتا !
کیونکہ یہ اعتراض کرنے والے کو علم ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے !
در اصل پارہ ایک ایسی دھات ہے جسکی بناء پر جوئیں مر جاتی ہیں ! اور گلہڑ جیسے مرض کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ یہ اسکے کیمائی اثرات ہیں ۔ یعنی یہ محض علاج ہے ۔
ایسے ہی خارش سے بچاؤ کے لیے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک عبد الرحمن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنما کو ریشمی قمیض پہننے کی اجازت دی تھی (صحیح بخاری: 2919)
اب یہ قمیض بھی کوئی قرآنی تعویذ نہ تھا !
در اصل جس چیز کی ممانعت ہے وہ ہے کسی دھاگے وغیرہ کو گلے , ہاتھ , پاؤں وغیرہ میں پہننا جس میں ما فوق الاسباب شفاء ملنے یا نظر بد یا جادو یا جنات وغیرہ سے بچنے کا عقیدہ ہو !
اسکے سوا محض خوبصورتی , یا ما تحت الاسباب علاج کے لیے کسی چیز کا باندھنا ممنوع ہی نہیں ہے ۔
خوب سمجھ لیں۔





