Powered by Blogger.

رفع الیدین کے متعلق ایک سوال

شئیر کریں


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ:


اگر نماز میں رفع الیدین نہ کیا جائے تو کیا نماز نہیں‌ہوتی؟


آپ سے کسی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں آپ نے دو احادیث کوڈ کی تھیں


ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز رفع الیدین کے بغیر نہیں پڑھی


ایک اور دوسری کا مفہوم ہے کہ آپ نے لوگوں‌کو طریقہ نماز رہی سکھایا جس طریقے سے وہ خود نماز پڑھا کرے تھے




ایک واقعہ ہے جو کہ میں نے کسی اپنے بھائی اسی فورم کے بھائی سے سُنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ خطبہ کرتے وقت باقاعدہ لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھ کر طریقہ نماز سکھایا تھا(اللہ تعالی کمی بیشی معاف کرے)


ناقص علم کی بدولت اتنا جان پایا کہ 13 سے 14 احادیث ہیں جو کہ رفع الیدین کے بارے میں ہیں ، جن صحابہ رضی اللہ عنہ سے یہ احادیث ثابت ہیں اُن میں خلفائے راشدین ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن صرف ایک حدیث جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے جس میں انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے اپنے آخری ایام میں‌رفع الیدین نہیں‌کیا۔


اس بارے میں تھوڑی وضاحت کر دیں ۔


ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو روایت ہے وہ حدیث کی کونسی سی کتاب سے ثابت ہے یہ بھی بتا دیجیئے گا


الجواب:


ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی جامع الترمذی اور سنن ابی داود وغیرہ میں موجود ہے ۔
لیکن وہ روایت معلول ہے ۔
 اسے امام ابوداود رحمہ اللہ اور امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے بھی معلول قرار دیا ہے ۔
 سفیان ثوری نامی روای ثقہ مدلس ہے اور یہ روایت معنعن ہے ‘ اور مدلس کا عنعنہ مردود ہوتا ہے ۔
سرنامہ