Powered by Blogger.

لاعلم شخص کو دینی مسائل کے حل کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے؟

شئیر کریں



السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں،


کہ ایک لاعلم ناواقف شخص کو دینی مسائل کے حل کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے؟۔


1۔۔۔۔ وہ شخص ازخود قرآن و حدیث کھول کر بیٹھ جائیں اور جو بات عقل و فہم میں آئے اس کو دین سمجھ کر اس پر عمل کرنے لگیں۔
2۔۔۔یا جو حضرات قرآن و سنت کے ماہر ہیں ان سے رجوع کریں؟۔



الجواب:


ایسا شخص قرآن وحدیث کھول کر بیٹھ جائے اور راسخ علماء سے ساتھ ساتھ رہنمائی بھی لیتا رہے ۔ اسکے تمام تر مسائل حل ہوتے چلے جائیں گے ۔ ان شاء اللہ


سائل کا دوسرا سوال:


جزاک اللہ خیرا۔۔۔
۔۔آپ کے جواب سے کچھ مزید سوالات ذہن میں‌ آرہے ہیں امید ہے آپ ان سوالات کے بھی تسلی بخش جوابات ارشاد فرمائیں گے۔۔۔۔

آپ نے ارشاد فرمایا کہ ”ایسا شخص قرآن وحدیث کھول کر بیٹھ جائے ''۔۔۔اگر یہ شخص ازخود قرآن و حدیث کو کھول کر بیٹھتا ہے تو سوال یہ ہے اس کے پاس حق و باطل جانچنے کا معیار کیا ہوگا؟۔۔۔۔اگر کہا جائے کہ قرآن و حدیث شریف اس کا معیار ہےاور کتاب و سنت سے براہ راست جو کچھ اس نے سمجھا ہے وہ ان کے نزدیک حق ہے ۔اور جو اس کے خلاف ہو وہ باطل ہے ۔۔تو پھر تو گویا حق وباطل کا اصل معیار قرآن و سنت نہ ہوا بلکہ قرآن و سنت کا فہم ہوا۔۔۔

دوسری جانب آپ راسخ علماء سے رہنمائی کی بات فرما رہے ہیں تو اس شخص کے لئے کیا ایسا بہتر نہیں‌ کہ راسخ علماء کے قرآن و حدیث فمہی پر اعتماد کریں؟ بجائے اس کے اپنے عقل و فہم کو معیار بنائے؟

۔یہ شخص ناواقف ہے اپنی خودر ائی اس کے دین کے لئے مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔
دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کوئی شخص بیمار پڑتا ہے تو وہ اپنا علاج ماہر ڈاکٹر سے کروانے کو ترجیح دیتا ہے نہ کہ ازخود طب کی کتابیں کھول کر بیٹھتا ہے۔۔جب ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی ہے تو ازخود طب کی کتابیں کھول کر بیٹھنا اور علاج کرنا کیا اپنی صحت اپنے ہاتھ تباہ کرنے کے مترادف نہیں؟۔


الجواب:

۱۔ حق وباطل کو جانچنے کا معیار کتاب وسنت یعنی وحی الہی ہی ہوگا ۔

۲۔ نہیں اس صورت میں قرآن وسنت کا فہم اصل معیار نہیں بلکہ اصل معیار کتاب وسنت ہی ہیں ۔ کیونکہ اس نے کتاب وسنت سےمراجعت کی ہے اور حق اور صواب کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے خواہ صرف اپنی فہم کے ذریعہ اور خواہ اپنی فہم کے ساتھ ساتھ راسخ فی العلم علماء سے راہنمائی کے ذریعہ بھی ۔ بہر دو صورت معیار کتاب وسنت ہی ہوگا ۔ نہ کہ اسکی یا کسی اور کی فہم ! ۔ 

۳۔ نہیں ! راسخ علماء کی فہم پر اندھا اعتماد کرنا درست نہیں ! ۔ بلکہ راسخ علماء سے مسائل دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ ان مسائل کے دلائل بھی جانے اور ان دلائل سے راسخ فی العلم لوگوں کی باتوں کو سمجھے اور جب راسخ علماء میں اختلاف ہو جائے تو انکے دلائل کو ہی معیار بنا کر ان میں حق اور صواب کو تلاش کرے ۔
بہر صورت کسی کی بھی فہم معیار نہیں بنے گی بلکہ معیار دلائل یعنی کتاب وسنت ہی ہونگے ۔

خودرائی اس وقت مہلک ہوتی ہے جب وہ بے لگام ہو ۔ اور اگر خود رائی کو وحی الہی کی لگام ڈال دی جائے تو وہ مہلک نہیں بلکہ منجی بن جاتی ہے ۔
۴۔ دین کا معاملہ ڈاکٹروں کے معاملہ سے بہت مختلف ہے ۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ 
چہ نسبت خاک را باعالم پاک ....!
دنیا کا کوئی بھی ڈاکٹر صرف نسخہ لکھ دیتا ہے اور اس نسخہ پر دلیل بیان نہیں کرسکتا , کیونکہ اکثر وبیشتر ڈاکٹرز کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے تحریر کردہ نسخہ میں موجود ادویات کن کن اجزاء پر مشتمل ہیں اور انکے کیا کیا خواص ہیں !
جبکہ دین کا معاملہ کچھ اور ہے دین کی کسی بھی بیماری کا علاج کرنے کے لیے کوئی راسخ عالم دین جب بات کرتا ہے تو اسکی وجہ اور اسکے دلائل سبھی جانتا ہوتا ہے ۔ اور اختلاف کی صورت میں وجوہ ترجیح پر بھی اسکی نظر ہوتی ہے ۔ اور مطالبہ پر وہ بتا سکتا ہے کہ میں نے اس مسئلہ کا یہ حل کیوں منتخب کیا ہے ۔
آپ آج ہی کسی ڈاکٹر صاحب سے بخار کی دواء پوچھیں اور جو دوا ء وہ بتائے اسکے بارہ میں پوچھ لیں کہ یہ کن اجزاء کا مرکب ہے اور ان اجزاء کے خواص کیا ہیں ؟ آپ کو فرق معلوم ہو جائے گا ۔ ان شاء اللہ
سرنامہ